شیعیان آل محمد (ص) کے ساتویں امام اور نویں معصوم باب الحوائج حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے 25 رجب المرجب سنہ 183 ہجری کو بغداد کے جیلخانے میں شہادت پائی۔ اور اس علاقے میں سپرد خاک کئے گئے جس کو آج کاظمین یا کاظمیہ کہا جاتا ہے۔
امام موسی کاظم علیہ السلام کی قید کے بارے میں شیخ مفید نے الارشاد میں روایت کی ہے کہ امام علیہ السلام کی گرفتاری کا سبب عباسی بادشاہ کا وزیر یحیی بن خالد بن برمک یا یحیی برمکی تھا کیونکہ ہارون نے اپنے بیٹے امین کو اپنے ایک قریبی شخص محمد بن جعفر بن اشعث کے سپرد کیا تھا جو کسی زمانے میں خراسان کے والی رہے تھے اور یحیی برمکی کو خوف تھا کہ اگر امین خلافت سنبھالے تو جعفر بن محمد کو دربار پر مسلط کرے گا اور یحیی اور برمکی خاندان کے دوسرے افراد کو بے دخل کردے۔
جعفر بن محمد شیعیان آل محمد (ص) میں سے تھے اور امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کے قائل تھے اور یحیی نے کئی بار یہ بات ہارون کے گوش گزار کرائی تھی۔
یحیی نے [ایک شیطانی چال چلی اور] امام موسی کاظم علیہ السلام کے بھتیجے علی بن اسمعیل بن جعفر کو مدینہ سے بلوایا تا کہ وہ آکر ہارون کے پاس امام علیہ السلام کی بدگوئی اور عیب جوئی کرے۔
امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے علی بن اسمعیل کی مدینہ سے حرکت سے قبل، اس کو بلوایا اور فرمایا کہ وہ اس سفر سے اجتناب کرے اور اگر بغداد جانا اس کے لئے بہت ضروری ہے تو ہارون کے پاس جا کر آپ (ع) کی بدگوئی نہ کرے۔ علی بن اسمعیل کی آنکھوں کے سامنے دنیا کی چمک تھی اور امام علیہ السلام کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے بغداد میں یحیی برمکی کے پاس پہنچا اور یحیی نے ایک ہزار درہم دے کر اس کو خرید لیا۔
ہارون اس سال حج کے لئے گیا اور مدینہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام اور مدینہ کے اکابرین نے اس اس استقبال کیا۔ لیکن ہارون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر شریف کے پاس کہا: یا رسول اللہ (ص) میں آپ سے معافی مانگتا ہوں کہ میں امام موسی بن جعفر (ع) کو قید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کی امت کو درہم برہم کردیں اور ان کا خون بہا دیں۔ اور اس کے بعد حکم دیا کہ امام علیہ السلام کو مسجد سے گرفتار کیا جائے اور خفیہ طور پر بصرہ کے والی عیسی بن جعفر بن منصور کے پاس لے جایا جائے۔
عیسی نے کچھ عرصہ بعد ہارون کو ایک خط لکھا کہ "موسی بن جعفر (ع) قیدخانے میں عبادت اور نماز کے سوا کسی کام کی طرف توجہ نہیں دیتے یا کسی کو بھیج دیں کہ آپ (ع) کو اپنی تحویل میں لیں یا پھر میں آپ (ع) کو رہا کردوں گا"۔
ہارون امام علیہ السلام کو بغداد لے گیا اور فضل بن ربیع کے سپرد کیا اور کچھ دن بعد فضل سے کہا کہ امام علیہ السلام کو آزار و اذیت پہنچائے لیکن فضل نے انکار کیا چنانچہ ہارون نے امام علیہ السلام کو فضل بن یحیی بن خالد برمکی کے سپرد کیا؛ چونکہ امام علیہ السلام فضل بن یحیی کے گھر میں نماز و عبادت و تلاوت قرآن میں مصروف رہے چنانچہ فضل نے آپ (ع) کو آزار و اذيت دینے سے اجتناب کیا اور ہارون کو معلوم ہوا تو غضبناک ہوا چنانچہ یحیی بن خالد برمکی نے امام علیہ السلام کو "سندی بن شاہک" کے سپرد کیا اور سندی نے آپ (ع) کو قیدخانے میں مسموم کیا۔ امام علیہ السلام کی شہادت زہر کی وجہ سے ہوئی تو سندی بن شاہک نے بغداد کے درباری فقہا اور اور اشراف کو بلوا کر آپ (ع) کا جسم بے جان انہیں دکھایا اور ان سے گواہی طلب کی کہ امام (ع) کے بدن پر کسی زخم یا گلا گھونٹنے کے آثار نہيں ہیں۔ اور اس کے بعد امام علیہ السلام کو بغداد کے علاقے "باب التبن" میں مقبرہ قریش میں سپرد خاک کیا۔ امام موسی کاظم علیہ السلام جمعہ سات صفر یا 25 رجب سنہ 183 ہجری کو 55 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔
(الارشاد شیخ مفید)
امام موسی کاظم علیہ السلام کی بعض اخلاقی خصوصیات
کلام و سخن
ائمہ معصومین علیہم السلام کا شیوہ تھا کہ مخالفین ولایت اور غرض و مرض لے کر شکوک و شبہات کی ترویج کرنے والوں کو اپنے کلام سے قائل کیا کرتے تھے اور ان کا جواب لاجواب ہوتا تھا؛ کیونکہ ایسے افراد عام طور پر بادشاہوں کے درباروں سے حکم لے کر بداندیشی اور کج اندیشی کی ترویج کے بدلے انعام پاتے تھے۔ ان ہی کج فکر دانشوروں اور دربار کے وظیفہ خواروں میں سے ایک "نفیع انصاری" تھا۔
مروی ہے کہ ایک دن ہارون نے امام علیہ السلام کو بلوایا اور امام دربارہارون میں تشریف لے گئے۔ نفیع دروازے پر بیٹھا اندر جانے کا اذن پانے کا منتظر تھا کہ امام (ع) اس کے سامنے سے وقار و عظمت کے ساتھ دربار میں داخل ہوئے۔
نفیع نے اپنے قریب کھڑے عبدالعزیز بن عمر سے پوچھا: یہ باوقار شخص کون تھا؟
عبدالعزیز نے کہا: یہ علی بن ابیطالب علیہ السلام کے بزرگوار فرزند اورآل محمد (ص) میں سے ہیں۔ وہ امام موسی بن جعفر علیہ السلام ہیں۔ نفیع جو آل رسول (ص) کے ساتھ بنوعباس کی دشمنی سے آگاہ تھا، اور خود بھی آل محمد (ص) کے ساتھ بغض و عداوت رکھتا تھا، کہنے لگا: میں نے بنو عباس سے زيادہ بدبخت کوئی گروہ نہيں دیکھا، کہ وہ ایسے فرد کے لئے اتنے احترام کے قائل ہیں کہ اگر طاقت پائے تو انہيں سرنگون کرے گا۔ میں یہیں رکتا ہوں اور جب وہ باہر آئیں تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کروں گا کہ ان کی شخصیت ٹوٹ جائے۔
عبدالعزيز نے نفیع کی عداوت بھری باتیں سن کر کہا: جان لو کہ یہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہيں کہ اگر کوئی کلام کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان پر حملہ کرے تو وہ خود پشیمان ہوتا ہے اور خجلت و ندامت کا دھبہ تا حیات ان کے ماتھے پر باقی رہتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد امام علیہ السلام دربار سے باہر آئے اور اپنی سواری پر بیٹھ گئے۔ نفیع پر عزم چہرے کے ساتھ امام علیہ السلام کے سامنے آیا اور امام علیہ السلام کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور غرور آمیز لہجے میں پوچھا: تم کون ہو؟
امام علیہ السلام نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: اگر تم میرا نسب پوچھ رہے ہو تو میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ابراہیم خلیل اللہ اور اسمعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کا فرزند ہوں اور اگر میرا وطن پوچھنا چاہتے ہو تو میں اسی سرزمین کا رہنے والا ہوں جس کے حج و زيارت کو خداوند متعال تم پر اور تمام مسلمانوں پر فرض کردیا ہے؛ اگر میری شہرت جاننا چاہتے ہو تو میں اس خاندان سے ہوں جس پر صلوات و درود بھیجنا، ہر نماز میں، خداوند متعال نے تم پر واجب کردیا ہے اور اگر تم نے فخر فروشی کی رو سے مجھ سے میرا تعارف پوچھا ہے تو خدا کی قسم! میرے قبیلے کے مشرکین نے تیرے خاندان کے مسلمانوں تک کو اپنے برابر نہيں سمجھا اور انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ ان لوگوں کو ہماری طرف بھیجیں جو قبیلے